حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ الفاطمیہ نواب شاہ سندھ پاکستان میں ’’تبلیغِ دین میں تحقیق کا کردار‘‘ کے عنوان سے ایک علمی نشست منعقد ہوئی، جس سے ریسرچ اسکالر اور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نواب شاہ کی لیکچرار سیدہ فرخندہ بتول نے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں ابتداء سے ہی تحقیق کی جانب توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خواتین کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے، جن میں صبر، استقامت اور برداشت نمایاں ہیں۔ دینی تعلیم کے میدان میں قدم رکھ کر معلمہ اور مبلغہ بننا ایک عظیم مگر ذمہ دارانہ راستہ ہے، جس کا بنیادی مقصد دینِ حق کو اس کی اصل صورت میں لوگوں تک پہنچانا ہے۔
محترمہ سیدہ فرخندہ بتول نے کہا کہ ایک معلمہ اور مبلغہ کے لیے محقق ہونا ناگزیر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غور و فکر اور تدبر کا حکم دیا ہے۔ کسی بھی بات کو آگے بیان کرنے سے پہلے خود اس کی تحقیق اور فہم ضروری ہے، ورنہ علم کا حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے زور دیا کہ منبر یا تبلیغ کے دوران پیش کی جانے والی ہر بات قرآن، حدیث اور عقل و دلیل کے مطابق ہونی چاہیے۔ دین کو اس کے بنیادی مصادر سے اخذ کرنا اور ہر نظریے کو اصولی اور منطقی انداز میں پیش کرنا ہی تحقیق کی اصل روح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں، اس لیے طالبات کو چاہیے کہ وہ ابتداء میں مختصر اور آسان تحریروں سے تحقیق کا آغاز کریں، تاکہ علمی مہارت بتدریج مضبوط ہو۔
بینظیر بھٹو یونیورسٹی نواب شاہ کی لیکچرار نے مزید کہا کہ اگرچہ زبانی تبلیغ میں تحقیق پیش کی جا سکتی ہے، تاہم تحقیق کا سب سے مضبوط ذریعہ تحریر و کتابت ہے۔ اگر کسی کو خطابت میں مہارت حاصل نہ ہو تو وہ اپنے قلم کو مضبوط بنائے، جس کے لیے ذاتی مطالعہ اور کتاب سے دوستی بے حد ضروری ہے۔
آخر میں انہوں نے طالبات کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ طالبات اپنی تحقیقی سوچ کو وسعت دیں، منطقی انداز اپنائیں، حوصلہ اور استقامت کے ساتھ تحقیق کے میدان میں قدم رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے توفیق و کامیابی کی دعا کرتی رہیں۔









آپ کا تبصرہ